|
جسله تقسیم انعامات و اهدا جوایز جهت تشویق قاریان عزیز که در امتحان تجوید شرکت کرده بودند در جامعه امام صادق برگزار گردید.
این جلسه در مسجد جامعه امام صادق با حضور مدیر جامعه امام صادق حجت الاسلام و المسلمین حاج آقای اسدی و معاونین مدیریت جامعه امام صادق حجت الاسلام حاج آقای موحدی و مسئول دار القرآن جامعه امام صادق قاری عبد الرزاق و قاری حاجی طاهر جان و والدین قاریان ، بعد از نماز مغربین در تاریخ 17/1/2010 برگزار گردید. حاجی طاهر جان ابتدا جلسه را قاری محمد و قاری احمد با تلاوت چند از آیان قرآن کریم رسماً آغاز کرد. بعد از آن حاجی طاهر جان اراد سخن نموده گفت : که ما بعنوان شیعه از دو چیز بسیار مهم دور نشویم یکی قرآن و دیگری عترت پیامبر. ایشان تاکید کرد که قاریان محترم تنها به روخوانی و تجوید قرآن کریم اکتفا نکنند بلکه اینها باید مرحله صوت ولحن و تفسیر را نیز طی کنند و قرآن که برنامه زندگی است در زندگی خودعملی پیاده نمایند. بعد از آن حاج آقای اسدی مدیر جامعه امام صادق (ع) درجایگاه قرار گرفت سخننان مبسوط را ایراد کرد ایشان خطاب به قاریان و والین محترم آنها گفت: قاریان عزیز در کلاسهای روخوانی و تجوید صوت و لحن و کلاس تفسیر که همه وقت در جامعه امام صادق(ع) ادامه دارد شرکت کنند تا بتوانند قرآن کریم را درک کنند و بفهمند. ایشان قاریان عزیز را سرمایه های معنوی دانسته و تاکید کرد : که با قرائت قرآن کریم دلهای شان را نورانی کرده و از دیدن و شنیدن چیزهای که دل را تاریک و ذهن را مشوش میکند بپرهیزد.
+ نوشته شده در دوشنبه بیست و هشتم دی 1388ساعت 12:28  توسط مدیریت سایت
|
![]() جامعہ امام صادق(ع) میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد جمعہ اسدی نے کہا کہ حضرت امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ امام فرماتے ہیں میری زندگی چار امور اور قاعدوں پر استوار ہے: پہلا : میں جب جان چکا کہ میرا رزق اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا تو مجھے اطمنان حاصل ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بھیٹے رہے کہ ہمارا رزق اللہ تعالی کی طرف سے مقرر ہے بلکہ رزق کا مطلب یہ ہے کہ ہم دن رات میں جو چیز کھاتے ہیں وہ مقرر ہے اسے ہم سے کوئی نہیں چین سکتا۔ دوسرا: جو کام اور عمل مجھ سے ہو سکتاہے اسکے لئے میں ذمہ دار ہوں کہ انجام دوں۔ ہمارے معاشرے میں ہر فرد کی کچھ ذمہ داریاں ہیں کہ جسے انجام دینا چاہیے ۔ اور ہر فرد کو اپنی استعداد، صلاحیت اور ہنر کے مطابق کام کرنا چاہیے تا کہ ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے۔ ہنر مند افراد کو چاہیے کہ خوب محنت سے کام کریں تا ایک ماڈرن اور متحرک معاشرہ وجود میں آسکے۔ کسی کو اپنی ذمہ داری دوسروں کے کھاندوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ تیسرا: جب میں یہ جان چکا کہ اللہ تعالی میرے ہر امر ، کردار اور نیت سے باخبر ہے تو مجھے عار محسوس ہوا کہ میں اس کے مقابل کوئی گناہ انجام دوں۔ پس ہمیں اپنے ہر عمل و کردار میں اللہ کو حاضر و ناظر جاننا چاہیے تا کہ کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو۔ چوتھا: جب میں جان چکا کہ زندگی کاخاتمہ موت پر ہے اور ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکنا ہے تو ہمیں آخرت کی زندگی کیلے تیار رہنا چاہیے ۔ جو چیز ہم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں وہ ہمارا عمل ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ پس ہمیں اچھے کاانتخاب کرنا چاہیے۔
+ نوشته شده در یکشنبه ششم دی 1388ساعت 9:55  توسط مدیریت سایت
|
![]() جامعہ امام صادق (ع) میں جناب علامہ محمد جمعہ اسدی نے مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ عاشورا اور قیام حسینی کی کامیابی میں نوجوانوں کا کردار تاریخ کے صفوں پر نمایاں نظر آتاہے۔ کربلا کے نوجوانوں کاکردار ہمارے نوجوانوں کیلئے ایک نمونہ ہے کہ جس کی پیروی کر کے ہمارے نوجوان معاشرے میں اپنا مقام بناسکتی ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے۔ آجکل کے جدید دور کو صرف ایک نوجوان ذہن ہی سمجھ سکتاہے اور اپنے مستقبل کیلئے ایک بہتر پلان تیار کرسکتاہے۔ نوجوانوں کو ایک مضبوط روح اور صحت مند فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مضبوط روح اپنی نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرسکتا ہے اور صحت مند فکر اور صحیح سوچ ،صحیح راستے کا انتخاب کرسکتی ہے۔ علامہ صاحب نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اپنا رابطہ اپنے رب سے مضبوط کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی سے رابطہ انسان کو نا امیدی اور فکری الجھنوں سے نجات دیتی ہے۔
+ نوشته شده در یکشنبه ششم دی 1388ساعت 9:31  توسط مدیریت سایت
|
|
|