

براي تبادل لينک ابتدا لينک مارو بانام:جامعه امام الصادق (ع) در
وبلاگ ياسايتتان قراردهيد ،
سپس از طریق فرم نظرات به ما خبر دهيد تاما هم اين کار رو براي شما بکنيم.
فروردین 1389
اسفند 1388
بهمن 1388
دی 1388
آذر 1388
مهر 1388
مرداد 1388
تیر 1388
اردیبهشت 1388
اسفند 1387
بهمن 1387
دی 1387
آذر 1387
آبان 1387
مرداد 1387
باکمال افتخار میتوان ادعا کرد تربیت یافتگان این مرکز اکنون در حوزه علمیه قم متجاوز از صد نفر علماء و طلاب مشغول تحصیل و یا تکمیل مدارج علمی میباشند که هریک انشاء الله در آینده نزدیک نیروی کار آمد و مؤثر در دنیای اسلام و جهان تشیع خواهند شد. و نیز در گوشه گوشه پاکستان از کراچی الی بلتستان و گلگیت و از داخل بلوچستان الی پنجاب و سرحد در حوزه های علمیه و مساجد و مراکز علمی ایفاء وظیفه و فعالیت مینمایند، بهره علمی و معنوی را از جامعه امام صادق (ع) گرفته اند.
بخش اردو![]()
درباره ما![]()
بخش اساتید![]()
بخش آموزشی![]()
مرکز اسلامی خدیجه الکبری![]()
بخش تبلیغات![]()
بخش عبادی![]()
بخش طلاب![]()
بخش فلاحی![]()
بخش کامپیوتر![]()
بخش مناسبت ها![]()
بخش مقالات![]()
بخش تصاویر![]()
گذارش![]()
بخش امور قرآنی![]()
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کراچی سے ایران جانے والے زائرین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ہزارگنجی کے علاقے میں جمعہ کی سہ پہر پیش آیا اور نامعلوم افراد نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے زائرین پر اس وقت فائرنگ کی جب چالیس کے قریب زائرین بس سے اتر کر ایک ہوٹل پر کھانا کھا رہے تھے۔
ایک عینی شاہد نے واقعہ کے بارے میں بتایا زائرین جیسے ہی بس سے اترے تو دو موٹرسا ئیکلوں پر سوار نامعلوم نقاب پوش افراد نے ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کر دی اور پھر فرار ہوگئےـ
فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔
حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جبکہ واقعہ میں محفوظ رہنے والے افراد کو کوئٹہ کی ایک امام بارگاہ بھیج دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ آصف اعجاز شیخ نے اس واقعہ کو مذہبی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا عمل شروع کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ کسی گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال کے دوران کوئٹہ میں مذہبی ٹارگٹ کلنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں درجنوں افراد فرقہ وارانہ دہشتگردی کا نشانہ بنے تھے۔
[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 10:14
|
|