تبليغاتX
جامعه امام الصادق (ع)
+ نوشته شده در  دوشنبه هفتم بهمن 1387ساعت 11:38  توسط مدیریت سایت  | 
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت ۴ پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق گورنمٹ گرلز پولی ٹیکنیکل کالج کے قریب پولیس ٹریننگ سینٹر جانے والے پولیس کی گاڑی پر نامعلوم موٹر سائکل سوار ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی حسن علی کانسٹیبل صفت اللہ، نصر اللہ اور ڈرائیور محمد تقی شہید ہوگئے۔ جبکہ ایک ڈی ایس پی غلام محمد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیاگیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی پولیس افسر کو سر و گردن میں گولیاں لگی ہیں اور انکی حالت تشویش ناک ہے۔ واقع کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

واقعہ کے بعد تمام تجارتی مراکز بند ہوگئ ہیں۔

+ نوشته شده در  چهارشنبه بیست و پنجم دی 1387ساعت 11:55  توسط مدیریت سایت  | 

پاکستان میں سخت سکیورٹی میں یوم عاشور مذہبی عقیدت سے منایا گیا۔ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس نکلے اور سوگ کی تقریبات ہوئیں البتہ کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ملک کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں ماتمی جلوس نکلے اور سوگواران حسین نے ماتم کیا۔

لاہور، کراچی روالپنڈی ملتان اور پشاور میں ذوالجناح کے مرکزی جلوس میں دیگرچھوٹے جلوس شامل ہوتے رہے اور اختتام پر شام غریباں کی مجالس برپا کی گئیں۔

پولیس رینجرز اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جلوس کے ساتھ رہی اور ماتمی تقریبات میں شریک ہونے والے افراد کو جامہ تلاشی کے عمل سےگزرنا پڑا۔

حساس مقامات اور امام بارگاہوں میں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات تھے۔ جلوس کے راستے میں آنے والی عمارتوں کی چھتیں خالی کرا لیگئی تھیں بعض مقامات پر پولیس چھتوں پر بھی مورچہ زن نظر آئی۔

یوم عاشور پر پولیس،فوج رینجرزاور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے تقریباً دو لاکھ اہلکاروں نے سکیورٹی کے فرائض انجام دیئے، پنجاب میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر تین روز کے لیے پابندی رہی جبکہ مختلف مکاتب فکر کے چار سو سے زائد علماء کی نقل و حرکت پہلے ہی محدود کردی گئی تھی۔

+ نوشته شده در  جمعه بیستم دی 1387ساعت 11:18  توسط مدیریت سایت  | 
جامعہ امام صادق میں مشہور عالم دین علامہ محمد حسن ذاکری نجفی کی المناک شہادت کے سلسلے میں منعقد جلسہ سے ٹیلفونک خطاب میں پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ جمعہ اسدی نے فرمایا : کہ شہید ایک سادہ منش انسان تھے انہوں نے اپنی زندگی تبلیغ و ترویج اسلام و قرآن کے لئے وقف کر رکھی تھی ایک نامور خطیب تھے اور ہمیشہ اتحاد و وحدت کی بات کرتے تھے مذہبی منافرت سے کوسوں دور تھے اور ہر عام و خاص کے لئے دلعزیز تھے۔ تعجب ہے کہ کوئٹہ جیسے شہر میں اس طرح کے لوگوں کی جان بھی محفوظ نہیں اور اس طرح کے غیر متنازع افراد تک کو قتل کیا جانا دشمن کی انتہائی گہری سازش کی غمازی کرتی ہے جس پر کوئٹہ شہر کے مہذب شہریوں کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے اور صوبائی حکومت کی جانب داری اور بے حسی کے رویہ کا احتساب کرنا چاہئے اتنے بے گناہ لوگوں کے قتل پر حکومت کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی جسکا مطلب ہے صوبائی حکومت کو کوئٹہ شہر کے شہریوں کے مال و جان کا کوئی خیال نہیں اسے صرف اپنی کرسی کا خیال ہے۔ لیکن حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ شہید علامہ جیسے لوگوں کا خون انکے اقتدار کی کرسی کو نیست ونابود کردیگا۔ علامہ اسدی  نے سعودی عرب سے ٹلیفونک خطاب میں حکومت کی بھر پور مزمت کرتے ہوئے شہید علامہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور انکی درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ 
+ نوشته شده در  یکشنبه سوم آذر 1387ساعت 10:29  توسط مدیریت سایت  | 
 

کوئٹہ کے قریب دشت کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پنجابی امام بارگاہ کے امام کو ایک ساتھی سمیت ہلاک کر دیا ہے جس پر شیعہ برادری نے احتجاج کیا ہے۔

دشت کے پولیس انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی نے بتایا ہے کہ علامہ شیخ حسن زاکری مچھ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر واپس کوئٹہ جا رہے تھے کہ دشت کے قریب نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق علامہ زاکری اور ان کے ہمراہ ایک پولیس کا سپاہی غلام حضرت ہلاک ہو گئے ہیں جنھیں کوئٹہ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد شیعہ برادری نے سخت احتجاج کیا ہے اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے سامنے بروری روڈ بلاک کر دیا تھا۔

ایک شیعہ رہنما رحیم جعفری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علامہ شیخ حسن زاکری کوئٹہ میں پنجابی امام بارگاہ میں امامت کرتے تھے لیکن ہر جمعہ کو وہ کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور مچھ کی امام بارگاہ میں نماز پڑھانے جایا کرتے تھے۔ شیعہ رہنماؤں کے مطابق کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

رحیم جعفری نے کہا ہے کہ انہوں نے کل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے اور وہ میت کو گورنر ہاؤس کے سامنے لے جائیں گے اور وہاں احتجاج کریں گے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔

 

+ نوشته شده در  شنبه دوم آذر 1387ساعت 8:1  توسط مدیریت سایت  | 

    برای خواندن بخش اردو روی اردو   کلیک نماید

 

 برای خواندن  و دیدن فتو بلاک جامعه امام الصادق (ع) روی فتوبلاگ کلیک نماید

+ نوشته شده در  یکشنبه بیست و نهم اسفند 1389ساعت 8:13  توسط مدیریت سایت 
جامعہ امام صادق (ع) علمدار روڈ کوئٹہ کی جانب سے سیلاب زدگان کیلئے راشن جس میں  آٹا، دال، گھی، چینی اور چائے کی پتی و غیرہ   اور اس کے علاوہ کچھ نقد   رقوم اندرون بلوچستان روانہ کردئیے گئے۔ گذشتہ روز جامعہ امام صادق کے پرنسپل  علامہ محمد جمعہ اسدی صاحب نے دو ٹرک سامان اندرون بلوچستان کیلئے اپنے نمائندے کے حوالے کئے جنہوں نے وہاں جاکر متاثرین میں تقسیم کئے۔

اس کے علاوہ جو متاثرین یہاں کوئٹہ میں  آئے ہیں ان میں بھی جامعہ امام صادق کی طرف سے ڈھائی سو خاندانوں  میں راشن تقسیم کئے۔  اور علامہ  محمد جمعہ اسدی صاحب نے یہ بھی کہاں کہ آیندہ بھی ہم راشن کی تقسیم متاثرین میں جاری رکھیں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ مشکل کے اس گھڑی میں ہم ہمیشہ کی طرح بلوچستان کے عوام کے ساتھ اسی طرح اپنے تعاون جارے رکھیں گے۔ کیونکہ ہم سب ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔

ان کے علاوہ ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے سالہائے گذشتہ کی طرح امسال بھی فقرا  میں ساڑھے چار سو خاندانوں میں راشن تقسیم کئے گئے اور آیندہ بھی یہ سلسلے جاری رہے گا۔

 
+ نوشته شده در  پنجشنبه چهارم شهریور 1389ساعت 13:28  توسط مدیریت سایت  | 

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کراچی سے ایران جانے والے زائرین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ہزارگنجی کے علاقے میں جمعہ کی سہ پہر پیش آیا اور نامعلوم افراد نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے زائرین پر اس وقت فائرنگ کی جب چالیس کے قریب زائرین بس سے اتر کر ایک ہوٹل پر کھانا کھا رہے تھے۔

ایک عینی شاہد نے واقعہ کے بارے میں بتایا زائرین جیسے ہی بس سے اترے تو دو موٹرسا ئیکلوں پر سوار نامعلوم نقاب پوش افراد نے ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کر دی اور پھر فرار ہوگئےـ

فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔

حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جبکہ واقعہ میں محفوظ رہنے والے افراد کو کوئٹہ کی ایک امام بارگاہ بھیج دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ آصف اعجاز شیخ نے اس واقعہ کو مذہبی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کا عمل شروع کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ کسی گروپ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے دوران کوئٹہ میں مذہبی ٹارگٹ کلنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے مختلف واقعات میں درجنوں افراد فرقہ وارانہ دہشتگردی کا نشانہ بنے تھے۔

 

 

+ نوشته شده در  شنبه دهم بهمن 1388ساعت 10:14  توسط مدیریت سایت  | 

جامعہ امام صادق(ع) میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد جمعہ اسدی نے کہا کہ حضرت امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ امام فرماتے ہیں  میری زندگی چار امور اور قاعدوں پر استوار ہے:
پہلا : میں جب جان چکا کہ میرا رزق اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا تو مجھے اطمنان حاصل ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بھیٹے رہے کہ ہمارا رزق اللہ تعالی کی طرف سے مقرر ہے بلکہ رزق کا مطلب یہ ہے کہ ہم دن رات میں جو چیز کھاتے ہیں  وہ  مقرر ہے اسے  ہم سے کوئی نہیں چین سکتا۔
دوسرا: جو کام اور عمل مجھ سے ہو سکتاہے اسکے لئے میں ذمہ دار ہوں کہ انجام دوں۔ ہمارے معاشرے میں ہر فرد کی کچھ ذمہ داریاں ہیں کہ جسے انجام دینا  چاہیے ۔ اور ہر فرد کو اپنی استعداد، صلاحیت اور ہنر کے مطابق کام کرنا چاہیے تا کہ ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے۔ ہنر مند افراد کو چاہیے کہ خوب محنت سے کام کریں تا ایک ماڈرن اور متحرک معاشرہ وجود میں آسکے۔ کسی کو اپنی ذمہ داری دوسروں کے کھاندوں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
تیسرا: جب میں یہ جان چکا کہ اللہ تعالی میرے ہر امر ، کردار اور نیت سے باخبر ہے تو مجھے عار محسوس ہوا کہ میں اس کے مقابل کوئی گناہ انجام دوں۔ پس ہمیں اپنے ہر عمل و کردار میں اللہ کو حاضر و ناظر جاننا چاہیے  تا کہ کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو۔
چوتھا: جب میں جان چکا کہ زندگی کاخاتمہ موت پر ہے اور ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکنا ہے تو ہمیں آخرت کی زندگی  کیلے تیار رہنا چاہیے ۔ جو چیز ہم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں وہ ہمارا عمل ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ پس ہمیں اچھے کاانتخاب کرنا چاہیے۔


+ نوشته شده در  یکشنبه ششم دی 1388ساعت 9:55  توسط مدیریت سایت  | 
 
جامعہ امام صادق (ع) میں جناب علامہ محمد جمعہ اسدی نے مجلس  عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ عاشورا اور قیام حسینی کی کامیابی میں نوجوانوں کا کردار تاریخ کے صفوں پر نمایاں نظر آتاہے۔ کربلا کے نوجوانوں کاکردار ہمارے نوجوانوں کیلئے ایک نمونہ ہے کہ جس کی پیروی کر کے ہمارے نوجوان  معاشرے میں اپنا مقام بناسکتی ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے نوجوانوں کا کردار بہت اہم ہے۔ آجکل کے جدید دور کو صرف ایک  نوجوان ذہن ہی سمجھ سکتاہے اور اپنے مستقبل کیلئے ایک بہتر پلان تیار کرسکتاہے۔
نوجوانوں کو ایک مضبوط روح اور صحت مند فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مضبوط روح اپنی نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرسکتا ہے اور صحت مند فکر اور صحیح سوچ ،صحیح راستے کا انتخاب کرسکتی ہے۔
علامہ صاحب نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اپنا رابطہ اپنے  رب سے مضبوط کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی سے رابطہ انسان کو نا امیدی اور فکری الجھنوں سے نجات دیتی ہے۔
+ نوشته شده در  یکشنبه ششم دی 1388ساعت 9:31  توسط مدیریت سایت  | 

+ نوشته شده در  یکشنبه بیست و نهم آذر 1388ساعت 9:9  توسط مدیریت سایت  | 
کوئٹہ9/3/2009: کوئٹہ میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے ۲ افراد شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ارباب کرم خان روڈ پر پیش آیا۔ موٹر سائیکل سوار نا معلوم افراد نے گاڑی میں سوار دو افراد پر فائرنگ کی۔ جس سے دونوں افراد موقع پر ہی ہلاگ ہوگئے۔ دونوں کی جنازے بولان میڈیکل کمپلیکس پہنچادی گئیں جہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے جمع ہوکر واقعہ اور شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کیخلاف احتجاج کیا۔ جبکہ جاں بحق ہونے والے دونوں افراد ہزارہ قبیلہ سے ہے۔

 

 ترویست ها باز هم دو عزیزی زا شهید کردند .

 امروز حوالی ساعت ۲ بعد از ظهر زمانیکه دوتن از هموطنان گرامی ما بنامهای محمد علی ولد محمد حسین  و محمدعلی از بروری هزاره تاون بسوی بازار با موتر شخصی شان در حرکت بودند در نزدیکی های دبل رود مورد حمله مسلحانه تروریستان نقاب پوش قرار گرفتند. 

    طبق گزارش شاهدان موجود در صحنه٬ بعد از اینکه تروریستان موتر سایکل سوار  موتر این دو عزیز را متوقف می کنند. با خیال راحت با فیر چهار مرمی به سر هر کدام شان آنها را به شهادت می رسانند. پولیس با آنکه در نزدیکی های صحنه جنایت حاضر بودند کما فی اسابق هیچ چیز را ندیده  آنها به آسانی محل را ترک کردند .

 گرچند صاحب نظران نظیر این حوادث را به تند روان بلوچ نسبت می دهند  ولیکن ظواهر حال نشان می دهند  که دولت یکی از متهم اصلی به حساب می اید.

حال  که حافظ امنیت خود به جان مردم افتاده است چه می توان کرد؟ سوال که پاسخ آن را گذشت زمان  روشن خواهد ساخت .

 

+ نوشته شده در  دوشنبه نوزدهم اسفند 1387ساعت 17:34  توسط مدیریت سایت  | 

+ نوشته شده در  پنجشنبه پانزدهم اسفند 1387ساعت 13:2  توسط مدیریت سایت  | 
کوئٹہ: مشرقی بائد پاس پر ٹارگٹ کلنگ  کی ایک اور واردات میں  دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے ۵ افراد کو موقع ہی پر شہید کردیا اور فرار ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق منگل کی رات ساڑھے سات بجے کے قریب مقامی فلور ملز کے ملازمین مینجر لیاقت علی، مشین آپریٹر حاجی مختار احمد منشی حیات اللھ، زاہد علی اور ڈرائیور نسیم علی اپنی ڈیوٹی ختم کرکے سوزکی کی ہائی روف میں اپنے گھروں کو جارہے تھے ان کی گاڑی پر جیسے ہی درخشان ناکے کے قریب پہنچی تو نا معلوم افراد نے ان پر اندھادھند فائرنگ شروع کردی جس سے گاڑی میں موجود پانچوں افراد ہلاک اور گاڑی تیز رفتاری کے باعث الٹ گئی ۔ واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ایدھی کے رضا کاروں نےلاشوں گاڑی سے نکالا اور بی ایم سی ہسپٹال پہنچایا۔ واقع کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی سینگڑوں افراد ہسپتال پہنچ گئے اور دھاڑیں مار مار کر روتے رہے ۔ پولیس کے مطابق حملہ اوروں کی تعداد چار تھی  ہلاک ہونے والے افراد علمدار روڈ ہزارہ ٹاون کے رہائشی تھے۔
+ نوشته شده در  چهارشنبه چهاردهم اسفند 1387ساعت 8:11  توسط مدیریت سایت  | 

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ڈبل روڈ علاقہ سریاب پر فائرنگ کر کے باپ بیٹے کو ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے پولیس کے مطابق اتوار کی سہ پہر  ڈبل روڈ پر گورنمنٹ کنٹریکٹر استاد حاجی غلام سخی اپنے بیٹے غلام علی کے ہمراہ دکان میں بیٹھا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے دونوں باپ بیٹا موقع پر ہلاک ہوگئے ملزمان وارادات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لے کر بی ایم سی ہسپتال پہنچایا جہاں ضروری کارروائی کے بعد یہ لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جو انہیں نیچاری امام بارگاہ  علمدار روڈ لے گئے۔  ان کے جنازہ آج  دس بجے امام بارگاہ نیچاری سے تشییع   کر کے ہزارہ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

+ نوشته شده در  دوشنبه دوازدهم اسفند 1387ساعت 8:13  توسط مدیریت سایت  | 
ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مقتول چئیر مین حسین علی یوسفی کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔ کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ پر جاں بحق کئے جانے والے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیر مین حسین علی یوسفی کی نماز جنازہ ہزارہ قبرستان میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، بلوچ نیشنل کانگریس، جمہوری وطن پارٹی، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ق کے رہنماوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جس کے بعد ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انھیں ہزارہ قبرستان ميں سپرد خاک کردیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبد الخالق ہزارہ، عثمان کاکڑ ، عبد الحکیم لہڑی اور دیگر مقررین نے کہا کہ یہ واقعہ کوئٹہ شہر کے امن کو تباہ کرنے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کھ اس قسم کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرے بصورت دیگر مشترکہ احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

+ نوشته شده در  سه شنبه هشتم بهمن 1387ساعت 18:34  توسط مدیریت سایت  | 

 

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی ایک اور واردات میں ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے رہنما جان بحق ہوگئے ۔ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے رہنما حسین علی یوسفی جان بحق ہوگئے۔ ٹارگٹ کلنگ کی اس واردات کے بعد عوام میں اشتعال پھیل گیا اور مشتعل افراد نے جناح روڈ اور ہسپتال میں شدید احتجاج کیا۔

 

 

http://jang.com.pk/jang/jan2009-daily/27-01-2009/cities/quetta/index.php