

براي تبادل لينک ابتدا لينک مارو بانام:جامعه امام الصادق (ع) - ٹارگٹ کلنگ: آٹھ ماہ میں 280 ہلاکتیں در
وبلاگ ياسايتتان قراردهيد ،
سپس از طریق فرم نظرات به ما خبر دهيد تاما هم اين کار رو براي شما بکنيم.
فروردین 1389
اسفند 1388
بهمن 1388
دی 1388
آذر 1388
مهر 1388
مرداد 1388
تیر 1388
اردیبهشت 1388
اسفند 1387
بهمن 1387
دی 1387
آذر 1387
آبان 1387
مرداد 1387
باکمال افتخار میتوان ادعا کرد تربیت یافتگان این مرکز اکنون در حوزه علمیه قم متجاوز از صد نفر علماء و طلاب مشغول تحصیل و یا تکمیل مدارج علمی میباشند که هریک انشاء الله در آینده نزدیک نیروی کار آمد و مؤثر در دنیای اسلام و جهان تشیع خواهند شد. و نیز در گوشه گوشه پاکستان از کراچی الی بلتستان و گلگیت و از داخل بلوچستان الی پنجاب و سرحد در حوزه های علمیه و مساجد و مراکز علمی ایفاء وظیفه و فعالیت مینمایند، بهره علمی و معنوی را از جامعه امام صادق (ع) گرفته اند.
بخش اردو![]()
درباره ما![]()
بخش اساتید![]()
بخش آموزشی![]()
مرکز اسلامی خدیجه الکبری![]()
بخش تبلیغات![]()
بخش عبادی![]()
بخش طلاب![]()
بخش فلاحی![]()
بخش کامپیوتر![]()
بخش مناسبت ها![]()
بخش مقالات![]()
بخش تصاویر![]()
گذارش![]()
بخش امور قرآنی![]()
صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور رواں سال آٹھ ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کے تین سو سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو سو اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو پیش آ ہی رہے ہیں لیکن قوم پرستوں کے حوالے سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات جس طرح پہلے پیش آ رہے تھے اب ان پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو گزشتہ ماہ ایک رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس کے مطابق بلوچستان میں آٹھ ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کے تین سو کے لگ بھگ واقعات پیش آئے ہیں جن میں دو سو اسی افراد ہلاک اور چھ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
تین روز پہلے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر انسپکٹر مائنز کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا اور اسی طرح گزشتہ روز طلال بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے رہنما کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔
شیعہ رہنماؤں کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چار سالوں میں اہل تشیع کے کوئی دو سو ستر افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔
کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس شاہد نظام درانی نے کہا ہے کہ بلوچ قوم پرستی کے حوالے سے متحرک افراد اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث افراد مشترکہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں کوئی پچاس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم نے ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالات پر جلد قابو پالیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں براہمدغ بگٹی اور حیربیار مری سے رابطے ہو رہے ہیں۔اس بارے میں بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ہو سکتا ہے وفاقی حکومت یا وزیر اعلٰی کی سطح پر کوئی کوششیں ہوئی ہوں لیکن انہیں اس کا علم نہیں ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت بیشتر جنوبی اضلاع سے اہل تشیع اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف محفوظ علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں۔
گرفته شده از: بی بی سی اردو
[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 13:34
|
|